افسوس کی بات 😢😥
29 Posts • 40K views
جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں نیپالی طلبہ و طالبات کے داخلہ پر پابندی ایک افسوس ناک اور فکر انگیز فیصلہ علم و تعلیم کسی ایک قوم، ملک یا سرحد کی میراث نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ صدیوں سے دینی مدارس اور علمی ادارے مختلف ممالک کے طلبہ کو علم کی روشنی سے منور کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی روشن روایت کا ایک اہم مرکز جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی بھی رہا ہے، جہاں برسوں سے نیپال کے طلبہ اور کلیۃ البنات الامجدیہ میں نیپالی طالبات دینی تعلیم حاصل کرتی رہی ہیں۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اب جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی اور کلیۃ البنات الامجدیہ میں نیپال کے طلبہ و طالبات کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ یہ ادارہ اتر پردیش کے ضلع مئو میں واقع قصبہ گھوسی میں قائم ہے اور علمِ دین کی خدمت میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے بار بار ادارے کے انتظامیہ کو مختلف طریقوں سے پریشان کیا گیا، نت نئے سوالات، دباؤ اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جس کے نتیجے میں ادارہ انتظامیہ کو یہ سخت اور ناگوار فیصلہ لینا پڑا۔ یہ فیصلہ کسی خوشی یا اختیار سے نہیں بلکہ مجبوری اور حالات کے دباؤ کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف نیپال کے ان طلبہ و طالبات کے لیے صدمے کا باعث ہے جو علمِ دین حاصل کرنے کا خواب لے کر یہاں آتے تھے، بلکہ یہ برصغیر کی مشترکہ علمی روایت کے لیے بھی ایک نقصان ہے۔ نیپالی طلبہ نے ہمیشہ اس ادارے میں رہ کر علم، اخلاق اور دینی خدمات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اور اپنے وطن واپس جا کر مساجد، مدارس اور دینی مراکز میں خدمات انجام دی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج تعلیم جیسے مقدس شعبے کو بھی شک و شبہ، سیاست اور تنگ نظری کی نظر کیا جا رہا ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو آنے والی نسلیں علمی زوال اور فکری محرومی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ علم کو سرحدوں میں قید کرنا نہ کبھی فائدہ مند رہا ہے اور نہ ہوگا۔ دعا ہے کہ حالات بدلیں، غلط فہمیاں دور ہوں، اور ایسے عظیم ادارے ایک بار پھر پورے امن و اطمینان کے ساتھ علم کی شمع روشن کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی کو ہر طرح کی آزمائش سے محفوظ رکھے اور علمِ دین کی یہ خدمت ہمیشہ جاری رہے۔ آمین۔ By. A. R. #قابلِ افسوس بات #افسوس 😞 #افسوس کی بات 😢😥 #🥹🥹،#افسوس کی بات ہے #😞بہت افسوس ناک خبر 😞
9 likes
1 comment 12 shares