Beiman
2.8K views
3 days ago
*{مسلم لڑکیاں آخر غیر مسلم لڑکوں سے شادی کیوں کرتی ہیں؟}* *﴿دخترانِ ملت بنیں قوم کی ذلت — اسباب، وجوہات، تجزیہ و حل﴾* *قسط نمبر: ۵ — تاریخ کا بہت ہی سنگین ترین فتنہ* *••••✍🏻 ندیم اشرف سہارنپوری••••* *ملک میں جن فتنوں نے ہزاروں دلوں کو مجروح کیا، اور دین و ملت کے پیکر کو ہر دور میں زخمی کیا، ان میں سب سے شدید، سب سے مہلک اور سب سے تباہ کن فتنہ فتنۂ ارتداد ہے۔ یہ وہ فتنہ ہے جو کبھی مسلمانوں کی صفوں سے اٹھا، کبھی غیروں کے دلوں میں انگڑائیاں لیتا رہا، کبھی مہدویت کا لبادہ اوڑھ کر نمودار ہوا، کبھی مرزائیت کی مکاری میں چھپا، کبھی عیسائیت کے نام پر، کبھی اریہ سماج کی تحریض کے ذریعے، اور آج وہی فتنہ نئے رنگوں میں ڈھل کر مسلم لڑکیوں کی ایمان سوزی اور ان کو مرتد بنانے کی باقاعدہ مہم بن چکا ہے۔ یہ فتنہ سابقہ تمام فتنوں سے اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ اس بار حملہ سیدھا نسلِ نو کی ماؤں پر کیا جا رہا ہے، اور دشمن جان چکا ہے کہ قوم کی تعمیر و تخریب کا مرکز عورت ہی ہوتی ہے۔* *افسوس کہ آج ملک کے فرقہ پرست گروہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مسلم لڑکیوں کے ایمان پر یلغار کر رہے ہیں۔ وہ پوری حکمت، سازش اور طاقت کے ساتھ قوم کی بیٹیوں کو مرتد کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، اور ان کی کوشش یہی ہے کہ آنے والی نسلیں ایسی ماؤں کے زیر سایہ پروان چڑھیں جن کا دین سے کوئی واسطہ باقی نہ رہے۔ یہ وہی فتنہ ہے جس کی تباہ کاریاں تاریخ نے بارہا دیکھی ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی گواہ ہے کہ جب بھی یہ فتنہ کسی نئی صورت میں اٹھا، ہمارے اکابرین نے جان و مال قربان کر کے اس کا مقابلہ کیا۔* *اکبر بادشاہ کے دور میں جب دین الٰہی کے نام پر یہ فتنہ پھیلا تو حضرت مجدد الفِ ثانی، شیخ احمد سرہندی نور اللہ مرقدہ نے اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور اسلام کو سر بلند کیا۔ جب فتنۂ مہدویت اٹھا تو علامہ محمد بن طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے اس کے چہرے سے نقاب اٹھایا۔ جب اریہ سماج کا طوفان اٹھا تو حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے اس کا تعاقب کیا۔ مرزا غلام قادیانی کے فتنے نے سر اٹھایا تو علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ اور ان کے رفقائے علم و فکر نے اسے زمین بوس کیا۔* *یعنی ارتداد کا فتنہ جہاں جہاں نئے رنگوں میں آیا، وہاں وہاں اہلِ حق نے اس کا مقابلہ کیا، اپنی زندگیاں صرف کر دیں، مگر دین کی عزت پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔* *آج اسی فتنہ نے ایک نئی شکل میں جنم لیا ہے۔ یہ فتنہ اب علمی مناظرے کا نام نہیں، نہ باطل عقائد کی کتابی بحث کا عنوان ہے؛ یہ فتنہ مسلم بیٹیوں کے گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا وار پردوں کے پیچھے نہیں، دلوں کے اندر ہو رہا ہے۔ اور اس کی زد میں وہ لڑکیاں ہیں جن کے ایمان کی حفاظت والدین، علماء اور پوری ملت کا مشترکہ فرض تھی۔ آج کے علماء کی ذمہ داری وہی ہے جو ہمارے اکابر نے اپنے دور میں ادا کی؛ یعنی اس فتنے کا راستہ روکنا، اس پر تحقیق کرنا، اور پوری امت کو اس زہر سے بچانا۔ اگر خدانخواستہ اس موقع پر بھی کوئی کوتاہی ہوئی تو یہ غفلت امت کے لیے ناقابلِ تلافی خسارہ اور آخرت میں سخت مواخذہ کا سبب بنے گی۔* *یہ حقیقت اب کسی پردے میں نہیں کہ مسلم لڑکیاں غیر مسلموں سے شادی کر رہی ہیں، گھر چھوڑ رہی ہیں، اور ایمان کی روشنی سے محروم ہو رہی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو آنے والی نسلیں کس دروازے سے جنم لیں گی؟ کس کی گود میں پروان چڑھیں گی؟ اور امت کا مستقبل کس کے ہاتھوں میں جائے گا؟* *بیٹیاں کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں۔ اگر یہی کمزور پڑ جائیں، تو قوم کا ڈھانچا کیسے قائم رہے گا؟* *`قومی غیرت کو جھنجوڑ دینے والے چند واقعات`* *اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ چند واقعات آپ کی خدمت میں پیش کیے جائیں تاکہ حقیقت کا وہ رخ سامنے آئے جو بہت سے لوگ ابھی بھی ماننے کو تیار نہیں۔ جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ مسلم لڑکیاں غیر مسلموں سے شادی کر رہی ہیں تو وہ معصومیت سے کہہ دیتے ہیں کہ ’’بھائی ایسا کبھی ہوا ہے؟‘‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سلسلہ عام ہو چکا ہے۔ ذیل کے چند واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں:* *۱) اگست ۲۰۱۸ کے انڈین ایکسپریس میں ۲۳ سالہ مسلم لڑکی کی خبر شائع ہوئی جس نے غیر مسلم لڑکے سے شادی کر لی تھی، اور جس کے بعد وہ لڑکی اپنے گھر والوں کی شدید دھمکیوں کا شکار تھی۔ عدالت کو اس کی حفاظتی ضمانت دینا پڑی۔* *۲) ایک امام صاحب کا بیان یوٹیوب پر موجود ہے (Jameel Abdullah Hashmi چینل پر) کہ ایک نوجوان نے انہیں جمعہ کی نماز کے بعد چار تصاویر دکھائیں، جن میں مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ کورٹ میرج کے لیے جا رہی تھیں۔* *۳) ۲۸ جولائی ۲۰۱۸ کو حیدرآباد کے اخبار میں "مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادی لمحۂ فِکر" کے عنوان سے خبر چھپی، جس میں تین آئی ٹی کمپنیوں میں ملازمت کرنے والی مسلمان لڑکیوں کے غیر مسلموں سے شادی کی تفصیل درج تھی: خوشنما پروین بنت ملک مظہر علی، ناظمہ بیگم اور عشرت۔* *۴) ۲۰۰۹ میں پونا میں مکہ مسجد کے امام صاحب نے ۱۵ روزہ سروے کروایا، جس میں ڈھائی سو مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ تعلقات میں پائی گئیں اور حیرت کی بات یہ کہ ان میں اکثر دین دار گھرانوں کی لڑکیاں تھیں۔* *۵) وسی ایکسٹ منیچا پاڈا کا واقعہ: ایک شادی شدہ مسلم عورت، تین بچوں کی ماں، اپنے بچے چھوڑ کر ایک غیر مسلم ’’چمار‘‘ کے ساتھ بھاگ گئی، اور اسی کے گھر رہ رہی ہے۔* *۶) ممبئی بھگت سنگھ نگر نمبر ۲ کی ایک مسلم لڑکی جہیز سے بچنے اور ’’رنگ کے احساسِ کمتری‘‘ میں مبتلا ہو کر غیر مسلم سے شادی کر کے ہندو مذہب اختیار کر چکی ہے۔* *۷) مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی کے مطابق پچھلے ایک سال میں صرف دہلی و اطراف کی ۵۰۰ سے زائد مسلم لڑکیاں غیر مسلموں سے شادی کر کے اپنے گھروں اور دین سے نکل چکی ہیں۔* *اسی طرح کشمیر سے بھی دل دہلا دینے والی خبریں ہیں کہ مختلف شہروں میں زیرِ تعلیم آٹھ کشمیری لڑکیاں گزشتہ چند مہینوں میں اسلام چھوڑ کر غیر مسلم گھروں کی دلہن بن چکی ہیں۔* *یہ تمام واقعات اس سچائی کا اعلان ہیں کہ ارتداد کا فتنہ آج پوری شدت کے ساتھ مسلم بیٹیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔* *(========آئندہ قسط=======)* *`ان شاء اللہ اگلی قسط کا عنوان ہوگا:`* *﴿“اس ارتدادی فتنے کے سدِّ باب کے لیے دو اہم باتیں’’﴾* *اس میں ہم اس خوفناک فتنہ کو روکنے کے لیے دو بنیادی، فیصلہ کن اور لازمی اقدامات پر گفتگو کریں گے۔ #mere baba ka Deen itna mushkil tha ki tum prda na kr ski😞😞 #Deen ki Baten #auraton ka prda karna sunnat hai😘😘💞💞 #🥀پردہ بہت ضروری ہے یاد رکھو⁦❣️⁩☝️⁩ #مسلم قوم کی بیٹی ہوں میں پردہ کرتی ہوں