फॉलो करें
Beiman
@sadibakhan
8,657
पोस्ट
13,494
फॉलोअर्स
Beiman
522 ने देखा
#💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten ♦️ *شیعہ کافر کیوں ؟؟؟*♦️ کیا آپ شیعہ عقائد جانتے ہیں؟؟  نہیں تو پڑھیں اور اپنے جاننے والوں کو بھی پڑھائیں کیا ان سے رشتے داری، تعلقات، لین دین جائز ہو سکتا ہے؟  اگر ہو سکتا تو پھر قادیانی سے کیوں نہیں ؟؟ کیا قادیانیوں سے زیادہ غلیظ ترین عقائد شیعہ کے نہیں؟ پڑھیں اور فیصلہ کریں 🔸 اس وقت پوری دنیا میں پائے جانے والے *شیعہ* کو *اثناء عشریہ* کہا جاتا ہے انہیں رافضی، امامیہ،  جعفریہ بھی کہا جاتا ہے یہ اپنے آپ کو محبّان علی رضی اللہ عنہ اور محبّان اہلبیت کہتے ہیں شیعہ کے تمام فرقے خلفائے راشدین یعنی حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کو نہ ماننے پر متّفق ہیں ۔ 🔸یہی نہیں بلکہ حضرات شیخین حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھلے عام گالیاں دیتے ہیں ان کو دشمنِ زہرا کہتے ہیں اس کے علاوہ ان کی مستند کتب میں بھی کئی کفریہ کلمات موجود ہیں ۔ ہم آپکے سامنے ان کے کفریہ کلمات کی فہرست انہی کی مستند کتب سے پیش کرتے ہیں ۔ 🔸*عقیدہ :اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتا ہے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ: اصولِ کافی جلد 1صفحہ نمبر 148 یعقوب کلینی ) 🔸*عقیدہ :موجودہ قرآن تحریف شدہ (بدلا ہوا) ہے ۔* 🔹(بحوالہ :حیات القلوب جلد 3صفحہ نمبر 10: مصنف : ملاں مجلسی ) 🔸 *عقیدہ :جمع قرآن جو بعد از رسول ﷺکیا گیا اصولاً غلط ہے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :ہزار تمہاری دس ہماری ص 560 عبدالکریم مشتاق کراچی ) 🔸 *عقیدہ :امام مہدی رضی اللہ عنہ جب آئیں گے تو اصلی قرآن لے کر آئیں گے ۔(معاذاللہ )* 🔹(بحوالہ :احسن المقال جلد 2ص336صفدر حسین نجفی ) 🔸 *عقیدہ :حضور ﷺ،حضرت عائشہ سے حالتِ حیض میں جماع کرتے تھے نعوذباللہ۔* 🔹(بحوالہ :تحفہ حنفیہ ص72غلام حسین نجفی جامع المنتظر ) 🔸 *عقیدہ :تمام پیغمبر زندہ ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ماتحت ہو کر جہاد کریں گے ۔(معاذاللہ )* 🔹(بحوالہ :تفسیر عیاشی جلد اول ص 181) 🔸 *عقیدہ :حضرت یونس علیہ السلام نے ولا یتِ علی کو قبول نہ کیا جسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :حیات القلوب جلد اول ص459مصنّف :ملا باقر مجلس مطبوعہ تہران ) 🔸 *عقیدہ :مرتبہ امامت مرتبہ پیغمبری سے بالا تر ہے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :حیات القلوب جلد سوم ص 2ملا مجلس مطبوعہ تہران ) 🔸 *عقیدہ :بارہ امام حضور ﷺکے علاوہ بقیہ تمام انبیاء کے اُستاد ہیں ۔(معاذاللہ )* 🔹(بحوالہ :مجموعہ مجالس ص 29صفدر ڈوگرا سرگودھا ) 🔸 *عقیدہ :حضرت ابو بکر و عمر و عثمان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت ترک کر دینے کی وجہ سے مرتد ہوگئے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ:اصولِ کافی جلد اول حدیث 43 ص420 مطبوعہ تہران طبع جدید ) 🔸 *عقیدہ :حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے بے حیا اور بے غیرت تھے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :نور الایمان ص75امامیہ کتب خانہ لاہور ) 🔸 *عقیدہ :حضرت ابو بکر و عمر و عثمان کی خلافت کے بارے میں جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے یہ خلافت حق ہے وہ عقیدہ بالکل گدھے کے عضو تناسل کی مثل ہے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :حقیقت فقہ حنفیہ ص 72 غلام نجفی ) 🔸 *عقیدہ :حضور ﷺکی وفات کے بعد تین صحابہ کے علاوہ باقی سب مرتد ہوگئے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :روضہ کافی جلد 8 ص245 حدیث 341) 🔸 *عقیدہ :حضرت عباس اور حضرت عقیل ذلیل النفس اور کمزور ایمان والے تھے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :حیات القلوب جلد 2ص618مطبوعہ تہران طبع جدید ) 🔸 *عقیدہ :معاویہ کی ماں کے چار یار تھے اس لئے سنّی چار یار کا نعرہ لگاتے ہیں ۔* 🔹(خصائل معاویہ ص34 مصنف :غلام حسین نجفی لاہور ) 🔸 *عقیدہ :عائشہ طلحہ و زبیر واجب القتل تھے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :کتاب بغاوتِ بنو امیّہ و معاویہ ص 474مصنف :غلام حسین نجفی ) 🔸 *عقیدہ :حضرت عائشہ کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ شریعت و شیعت ص 45مصنف :عرفان حیدر عابدی کرادمی ) 🔸 *عقیدہ :حضور ﷺکے ظاہر و باطن میں تضاد تھا ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :تفسیر عیاشی جلد 2ص 101از:محمد بن مسعود عیاشی ) 🔸 *عقیدہ :اللہ تعالیٰ نے پیغام رسالت دیکر جبرائیل کو بھیجا کہ علی رضی اللہ عنہ کو پیغام رسالت دو لیکن جبرائیل بھول کر محمد ﷺکو دے گئے ۔(معاذ اللہ )* 🔹(بحوالہ :انوار نعمانیہ ص237از:نعمت اللہ جبرائری ) 🔸 *عقیدہ :جس نے ایک دفعہ متعہ(زنا) کیا اسکا درجہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے برابر۔جس نے دو دفعہ متعہ کیا اسکا درجہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے برابر۔ جس نے تین دفعہ کیا اسکا درجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے برابر۔جس نے چار دفعہ متعہ کیا اسکا درجہ حضرت محمد ﷺکے برابرہو جاتاہے ۔* (معاذاللہ ) 🔹(بحوالہ:برہانِ متعہ ثوابِ متعہ ص 52) 🔸عقیدہ : *شیعہ مذہب کا کلمہ اسلامی کلمہ کے خلاف ہے* شیعہ مذہب کا کلمہ یہ ہے ۔ ’’لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ علی ولی اللّٰہ وصی رسول اللّٰہ و خلیفۃ بلا فصل ‘‘ ترجمہ :اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللہ کے رسول ، حضرت علی اللہ کے ولی اور رسول کے بلافصل خلیفہ ہیں ۔ *یہ چند کفریات شیعہ مذہب کی کچھ کتابوں سے لیے گئے ہیں ورنہ شیعہ مذہب کی کتب لا تعداد کفریات سے بھری ہوئی ہیں جن کو لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں*
Beiman
535 ने देखा
محبین دارالعلوم دیوبند✅ MUHIBBEEN DARUL ULOOM DEOBAND: https://whatsapp.com/channel/0029VakMzHlHgZWW00L8hY3j/8768 *گزشتہ سبق کے لیے👆🏻 کلک کریں* *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *بسم اللہ الرحمن الرحیم* *دوسرا و آخری سبق: حضرت آدم علیہ السلام —* *تخلیقِ انسان، آغازِ امتحان اور دعوتِ ایمان کی بنیاد* قرآنِ مجید حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کو محض آغازِ انسانیت کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت، دعوتِ توحید اور انسانی ذمہ داری کے مستقل اصول کے طور پر بیان کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ ایمان، کفر، اطاعت، لغزش، توبہ، دشمنی اور ہدایت کے تمام بنیادی نکات کو ایک ہی سلسلے میں واضح کر دیتا ہے، اس سبق کا مقصد آدم علیہ السلام کو ایک نبی اور داعی کے طور پر سمجھنا ہے تاکہ انسان اپنے رب، اپنے دشمن اور اپنے راستے کو پہچان سکے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ* *إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾** ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انسان کی تخلیق اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے باقاعدہ منصوبے کے تحت ہوئی، خلافت کا مطلب یہ ہے کہ انسان زمین پر اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا ذمہ دار ہے، اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دعوتِ ایمان کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ انسان اپنے منصب کو سمجھے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔ یہ علم انسان کی اصل فضیلت ہے، یہ علم محض معلومات نہیں بلکہ پہچان، شعور اور سمجھ کا علم ہے، اسی علم کی بنیاد پر انسان حق و باطل میں فرق کر سکتا ہے اور اسی لیے وہ مکلف ہے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو۔ یہ سجدہ عبادت نہیں بلکہ تکریم تھا، اس سے انسان کی عزت اور ذمہ داری دونوں واضح ہوئیں، اسی موقع پر شیطان کا تکبر سامنے آیا۔ *﴿إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہاں حق و باطل کی پہلی لکیر کھنچ گئی، شیطان کا انکار علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ تکبر کی وجہ سے تھا، یہی تکبر ہر دور میں دعوتِ ایمان کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے فرمایا: اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو۔ آدم علیہ السلام کو واضح ہدایت کے ساتھ اختیار دیا گیا، یہ اختیار ہی امتحان کی بنیاد ہے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ ہدایت مختصر اور واضح تھی، مگر شیطان نے دھوکے سے لغزش کروائی۔ ﴿ *فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا* ﴾ ترجمہ: پھر شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا۔ یہ لغزش تھی، دانستہ نافرمانی نہیں، اور یہی فرق ایمان اور کفر کے راستے الگ کرتا ہے۔ *﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا﴾* ترجمہ: دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یہ انسانیت کی پہلی توبہ ہے، اعتراف، عاجزی اور رجوع کا کامل نمونہ۔ *﴿فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾* ترجمہ: پھر آدم نے اپنے رب سے کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہاں واضح ہو گیا کہ اللہ کی طرف پلٹنا نجات کا راستہ ہے۔ *﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا﴾* ترجمہ: ہم نے فرمایا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ زمین پر نزول سزا نہیں بلکہ امتحان اور ذمہ داری کا آغاز تھا۔ *﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى﴾* ترجمہ: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے۔ *﴿فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾* ترجمہ: تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ ہدایت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا گیا، یہی دعوتِ ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ اسی مقام پر شیطان اپنے مشن کا اعلان کرتا ہے۔ *﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ* ﴾** ترجمہ: اس نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو ضرور بہکاؤں گا۔ *﴿إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾* ترجمہ: سوائے تیرے ان بندوں کے جو خالص ہیں۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ *﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ* ﴾ ترجمہ: بے شک میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہ ہوگا۔ یہ اعلان بتاتا ہے کہ شیطان کا زور وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں رب کی پہچان اور اخلاص آ جاتا ہے، یہی دعوتِ ایمان کا مقصد ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے۔ *خلاصہ* قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ارادے، علم اور حکمت کے تحت ہوئی، فرشتوں کے سامنے انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا اور آدم علیہ السلام کو علم عطا کر کے ان کی فضیلت واضح کی گئی، اس مرحلے پر ہی واضح کر دیا گیا کہ انسان محض جسم نہیں بلکہ علم، شعور اور ذمہ داری کا حامل ہے، اور اس کی اصل پہچان اس کے رب سے تعلق میں ہے۔ پھر آدم علیہ السلام کو جنت میں بسایا گیا، واضح ہدایت دی گئی اور ساتھ ہی اختیار بھی دیا گیا، یہاں شیطان کی دشمنی کھل کر سامنے آئی جس نے تکبر کی بنیاد پر انسان سے عداوت اختیار کی، اس دشمنی کا پہلا وار آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ پر ہوا، مگر یہ کوئی سرکشی یا دانستہ نافرمانی نہیں تھی بلکہ ایک لغزش تھی، جس کے فوراً بعد آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا، یوں یہ اصول قائم ہو گیا کہ انسان کی عظمت لغزش نہ کرنے میں نہیں بلکہ لغزش کے بعد رب کی طرف پلٹ آنے میں ہے۔ اس کے بعد زمین پر نزول کا مرحلہ آیا جو سزا نہیں بلکہ آزمائش اور ذمہ داری کا آغاز تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ انسان کو ہدایت دی جاتی رہے گی اور جو اس ہدایت کو تھام لے گا وہ خوف اور غم سے محفوظ رہے گا، جبکہ جو حق واضح ہونے کے بعد جھٹلائے گا وہ خود اپنے انجام کا ذمہ دار ہوگا، اسی مقام پر شیطان نے کھلے لفظوں میں اعلان کیا کہ وہ انسان کو حق سے بھٹکانے کی پوری کوشش کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ سنا دیا کہ شیطان کا کوئی زور خالص بندوں پر نہیں چلے گا۔ یوں حضرت آدم علیہ السلام کا پورا واقعہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اصل معرکہ علم و جہالت کا نہیں بلکہ اخلاص و تکبر کا ہے، ہدایت اور گمراہی زبردستی نہیں بلکہ انتخاب کا نتیجہ ہیں، اور نجات کا راستہ رب کی پہچان، توحید کے شعور اور اس کی بندگی میں ہے، یہی پیغام ہر نبی لے کر آیا اور یہی دعوتِ ایمان آج اس امت کی ذمہ داری ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے تاکہ وہ حق کو پہچان کر باطل سے خود محفوظ ہو سکے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
Channel • 25K followers
#💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten #💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 *✴️ قرآنی تحریری کورس۔۔* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *سبق: حضرت نوح علیہ السلام —* *پہلا دن* *موضوع: بعثتِ نوح، دعوتِ توحید اور قوم کی فکری و اعتقادی گمراہی* ‎ حضرت نوح علیہ السلام انسانیت کے پہلے رسول ہیں جنہیں ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا جو ابتدا میں توحید پر تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ صالحین کی حد سے بڑھی ہوئی تعظیم کو عبادت میں بدل بیٹھی، اور یہی فکری انحراف بعد میں کھلے شرک کی صورت اختیار کر گیا۔ ‎ *﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ﴾* ترجمہ: ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ ‎ یہ آیت بعثتِ نوح کی اصل حقیقت واضح کرتی ہے کہ وہ ایک حقیقی اصلاحی مشن کے ساتھ بھیجے گئے، نہ کہ محض نصیحت یا روایت کی تجدید کے لیے۔ ‎ *﴿أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ﴾* ترجمہ: کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ ‎ دعوتِ نوح کا آغاز کسی فلسفے یا سماجی اصلاح سے نہیں بلکہ سیدھی توحید سے ہوا، کیونکہ انسان کی اصل گمراہی یہی ہوتی ہے۔ ‎ *﴿إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾* ترجمہ: میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ‎ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دعوتِ ایمان صرف خوش خبری نہیں بلکہ انجام کی سنجیدہ یاد دہانی بھی ہے۔ ‎ *﴿قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾* ترجمہ: اس کی قوم کے سرداروں نے کہا: ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ ‎ یہاں واضح ہوتا ہے کہ حق کی مخالفت سب سے پہلے بااثر طبقہ کرتا ہے، کیونکہ حق ان کے مفادات کو چیلنج کرتا ہے۔ ‎ *﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ﴾* ترجمہ: نوح نے کہا: اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں۔ ‎ داعی کا جواب الزام تراشی نہیں بلکہ وقار، اعتماد اور دلیل پر مبنی ہونا چاہیے۔ ‎ *﴿وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾* ترجمہ: بلکہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ ‎ یہ جملہ بتاتا ہے کہ دعوت کی اصل طاقت داعی کی ذات نہیں بلکہ رب کی طرف سے ہونے میں ہے۔ ‎ *﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ﴾* ترجمہ: میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں۔ ‎ یہ آیت دعوت کے دو بنیادی اصول طے کرتی ہے: امانت داری اور خالص خیرخواہی۔ ‎ *﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾* ترجمہ: اور میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ‎ وحی اور انسانی قیاس کے فرق کو سمجھنا ایمان کی بنیاد ہے۔ ‎ *﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾* ترجمہ: اور انہوں نے کہا: اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا، نہ ودّ کو، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔ ‎ یہ قومِ نوح کے مشہور بت تھے، جو دراصل صالح انسانوں کے نام پر بنائے گئے، پھر وقت کے ساتھ عبادت کا مرکز بن گئے، اور یہی شرک کی اصل جڑ بنی۔ ‎ *﴿فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا﴾* ترجمہ: تو وہ ان میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے۔ ‎ یہ آیت بتاتی ہے کہ دعوتِ ایمان وقتی جوش کا کام نہیں بلکہ عمر بھر کی استقامت اور قربانی کا راستہ ہے۔ ‎ غور و فکر و عمل کے جامع نکات ‎ 1) قومِ نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ شرک اکثر صالحین کی حد سے بڑھی ہوئی تعظیم سے شروع ہوتا ہے، اس لیے توحید کی حفاظت ضروری ہے۔ ‎ 2) حق کا انکار اکثر علمی کمی نہیں بلکہ تکبر، روایت پرستی اور مفاد پرستی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ‎ 3) دعوتِ ایمان میں اصل قوت پیغامِ حق کی ہوتی ہے، نہ داعی کے مقام یا تعداد کی۔ ‎ 4) طویل صبر، مسلسل محنت اور ہر اسلوب میں دعوت دینا انبیاء علیہم السلام کا ثابت شدہ منہج ہے۔ ‎ 5) یہ سبق ہر دل کو دعوت دیتا ہے کہ وہ انجام پر سنجیدگی سے غور کرے، توحید کو خالص رکھے اور اپنے رب سے مضبوط تعلق قائم کرے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
Beiman
345 ने देखा
#🕋Quran Aur Hadees ( قرآن اور حدیث ) 🕋 #💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #💖💖islamic post💖💖 #अल्लाहु अकबर #Deen ki Baten *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *بسم اللہ الرحمن الرحیم* *دوسرا و آخری سبق: حضرت آدم علیہ السلام —* *تخلیقِ انسان، آغازِ امتحان اور دعوتِ ایمان کی بنیاد* قرآنِ مجید حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کو محض آغازِ انسانیت کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت، دعوتِ توحید اور انسانی ذمہ داری کے مستقل اصول کے طور پر بیان کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ ایمان، کفر، اطاعت، لغزش، توبہ، دشمنی اور ہدایت کے تمام بنیادی نکات کو ایک ہی سلسلے میں واضح کر دیتا ہے، اس سبق کا مقصد آدم علیہ السلام کو ایک نبی اور داعی کے طور پر سمجھنا ہے تاکہ انسان اپنے رب، اپنے دشمن اور اپنے راستے کو پہچان سکے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ* *إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾** ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انسان کی تخلیق اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے باقاعدہ منصوبے کے تحت ہوئی، خلافت کا مطلب یہ ہے کہ انسان زمین پر اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا ذمہ دار ہے، اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دعوتِ ایمان کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ انسان اپنے منصب کو سمجھے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔ یہ علم انسان کی اصل فضیلت ہے، یہ علم محض معلومات نہیں بلکہ پہچان، شعور اور سمجھ کا علم ہے، اسی علم کی بنیاد پر انسان حق و باطل میں فرق کر سکتا ہے اور اسی لیے وہ مکلف ہے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو۔ یہ سجدہ عبادت نہیں بلکہ تکریم تھا، اس سے انسان کی عزت اور ذمہ داری دونوں واضح ہوئیں، اسی موقع پر شیطان کا تکبر سامنے آیا۔ *﴿إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہاں حق و باطل کی پہلی لکیر کھنچ گئی، شیطان کا انکار علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ تکبر کی وجہ سے تھا، یہی تکبر ہر دور میں دعوتِ ایمان کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے فرمایا: اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو۔ آدم علیہ السلام کو واضح ہدایت کے ساتھ اختیار دیا گیا، یہ اختیار ہی امتحان کی بنیاد ہے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ ہدایت مختصر اور واضح تھی، مگر شیطان نے دھوکے سے لغزش کروائی۔ ﴿ *فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا* ﴾ ترجمہ: پھر شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا۔ یہ لغزش تھی، دانستہ نافرمانی نہیں، اور یہی فرق ایمان اور کفر کے راستے الگ کرتا ہے۔ *﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا﴾* ترجمہ: دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یہ انسانیت کی پہلی توبہ ہے، اعتراف، عاجزی اور رجوع کا کامل نمونہ۔ *﴿فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾* ترجمہ: پھر آدم نے اپنے رب سے کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہاں واضح ہو گیا کہ اللہ کی طرف پلٹنا نجات کا راستہ ہے۔ *﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا﴾* ترجمہ: ہم نے فرمایا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ زمین پر نزول سزا نہیں بلکہ امتحان اور ذمہ داری کا آغاز تھا۔ *﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى﴾* ترجمہ: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے۔ *﴿فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾* ترجمہ: تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ ہدایت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا گیا، یہی دعوتِ ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ اسی مقام پر شیطان اپنے مشن کا اعلان کرتا ہے۔ *﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ* ﴾** ترجمہ: اس نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو ضرور بہکاؤں گا۔ *﴿إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾* ترجمہ: سوائے تیرے ان بندوں کے جو خالص ہیں۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ *﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ* ﴾ ترجمہ: بے شک میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہ ہوگا۔ یہ اعلان بتاتا ہے کہ شیطان کا زور وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں رب کی پہچان اور اخلاص آ جاتا ہے، یہی دعوتِ ایمان کا مقصد ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے۔ *خلاصہ* قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ارادے، علم اور حکمت کے تحت ہوئی، فرشتوں کے سامنے انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا اور آدم علیہ السلام کو علم عطا کر کے ان کی فضیلت واضح کی گئی، اس مرحلے پر ہی واضح کر دیا گیا کہ انسان محض جسم نہیں بلکہ علم، شعور اور ذمہ داری کا حامل ہے، اور اس کی اصل پہچان اس کے رب سے تعلق میں ہے۔ پھر آدم علیہ السلام کو جنت میں بسایا گیا، واضح ہدایت دی گئی اور ساتھ ہی اختیار بھی دیا گیا، یہاں شیطان کی دشمنی کھل کر سامنے آئی جس نے تکبر کی بنیاد پر انسان سے عداوت اختیار کی، اس دشمنی کا پہلا وار آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ پر ہوا، مگر یہ کوئی سرکشی یا دانستہ نافرمانی نہیں تھی بلکہ ایک لغزش تھی، جس کے فوراً بعد آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا، یوں یہ اصول قائم ہو گیا کہ انسان کی عظمت لغزش نہ کرنے میں نہیں بلکہ لغزش کے بعد رب کی طرف پلٹ آنے میں ہے۔ اس کے بعد زمین پر نزول کا مرحلہ آیا جو سزا نہیں بلکہ آزمائش اور ذمہ داری کا آغاز تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ انسان کو ہدایت دی جاتی رہے گی اور جو اس ہدایت کو تھام لے گا وہ خوف اور غم سے محفوظ رہے گا، جبکہ جو حق واضح ہونے کے بعد جھٹلائے گا وہ خود اپنے انجام کا ذمہ دار ہوگا، اسی مقام پر شیطان نے کھلے لفظوں میں اعلان کیا کہ وہ انسان کو حق سے بھٹکانے کی پوری کوشش کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ سنا دیا کہ شیطان کا کوئی زور خالص بندوں پر نہیں چلے گا۔ یوں حضرت آدم علیہ السلام کا پورا واقعہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اصل معرکہ علم و جہالت کا نہیں بلکہ اخلاص و تکبر کا ہے، ہدایت اور گمراہی زبردستی نہیں بلکہ انتخاب کا نتیجہ ہیں، اور نجات کا راستہ رب کی پہچان، توحید کے شعور اور اس کی بندگی میں ہے، یہی پیغام ہر نبی لے کر آیا اور یہی دعوتِ ایمان آج اس امت کی ذمہ داری ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے تاکہ وہ حق کو پہچان کر باطل سے خود محفوظ ہو سکے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں*
Beiman
434 ने देखा
محبین دارالعلوم دیوبند✅ MUHIBBEEN DARUL ULOOM DEOBAND: https://whatsapp.com/channel/0029VakMzHlHgZWW00L8hY3j/8728 *گزشتہ سبق کے لیے👆🏻 کلک کریں* *جائزہ و غور و فکر کے سوالات* — *سبق اول* *(حضرت آدم علیہ السلام)* *1۔ لغزش اور انسان کی ذمہ داری* حضرت آدم علیہ السلام کی بھول ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر انسان کو فطرتاً خطا کا سامنا ہوتا ہے، لیکن خطا کے بعد کیا میں اپنی ذمہ داری سمجھ کر فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں؟ *2۔ وسوسوں اور فریب سے بچاؤ* شیطان نے وسوسے کے ذریعے آدم علیہ السلام کو بھول کی طرف مائل کیا۔ کیا میں اپنے دل میں آنے والے وسوسوں اور نفسانی خواہشات کو پہچان کر اللہ کے حکم کے مطابق رہنے کی عملی کوشش کرتا ہوں؟ *3۔ عاجزی اور اعتراف کی قوت* آدم علیہ السلام نے اپنی بھول تسلیم کی اور اللہ سے مدد طلب کی۔ کیا میں بھی اپنی غلطیوں کو چھپانے یا دوسروں پر ڈالنے کی بجائے عاجزی اور سچائی کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوتا ہوں؟ *4۔ اللہ کی رحمت اور امید پر پختہ یقین* اللہ نے آدم علیہ السلام کی بھول کے باوجود توبہ قبول کی۔ کیا میں ہر حال میں اللہ کی رحمت اور بخشش پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور مایوسی کی طرف نہیں جھکتا؟ *5۔ زندگی کو امتحان سمجھنا اور سنجیدہ رویہ* زمین پر بھیجنا سزا نہیں بلکہ امتحان تھا۔ کیا میں اپنی زندگی کے حالات کو اللہ کی آزمائش اور رہنمائی کے موقع کے طور پر دیکھ کر ہر عمل میں سنجیدہ رہتا ہوں؟ *6۔ ہدایت کی پیروی اور نجات* اللہ نے فرمایا جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ خوف ہوگا نہ غم۔ کیا میں واقعی اپنی زندگی کے ہر فیصلہ میں اللہ کی ہدایت کو اپنا معیار بناتا ہوں؟ *7۔ توحید اور بندگی کا شعور* لغزش کے بعد بھی آدم علیہ السلام نے اللہ کی ذات اور اس کی فرمانبرداری کو برقرار رکھا۔ کیا میں اپنی زندگی میں توحید اور بندگی کو مکمل اور عملی طور پر اپنانے کے لیے تیار ہوں؟ *8۔ دل کی اصلاح اور عملی استقامت* لغزش کے بعد رجوع اور توبہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ دل کی اصلاح انسان کی اصل طاقت ہے۔ کیا میں اپنی زندگی میں دل کی اصلاح اور عملی استقامت کے لیے مستقل کوشش کر رہا ہوں؟ *9۔ شعوری انتخاب اور عمل کا معیار* زمین پر زندگی کے ہر عمل کے لیے انسان جوابدہ ہے۔ کیا میں اپنے ہر عمل میں شعوری طور پر اللہ کی رضا اور اس کے معیار کے مطابق عمل کرتا ہوں؟ *10۔ توبہ اور رجوع کا مستقل طریقہ* آدم علیہ السلام کی بھول کے بعد رجوع ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ توبہ مستقل عمل ہے، نہ کہ ایک وقتی احساس۔ کیا میں بھی اپنی زندگی میں ہر لغزش کے بعد اسی طرح اللہ کی طرف پلٹنے کا طریقہ اپناتا ہوں؟ *11۔ ایمان اور عمل میں استقامت* لغزش کے بعد عمل اور رجوع ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔ کیا میں اپنے دل اور عمل میں استقامت پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہوں؟ *12۔ غور و فکر اور قلبی مضبوطی* یہ سبق ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ غلطی انسان کی فطرت ہے، لیکن رجوع، توبہ اور اللہ کی ہدایت پر عمل ایمان کو مضبوط اور قلبی طور پر پختہ کرتا ہے۔ کیا میں اپنے دل میں یہ عہد کرتا ہوں کہ لغزش کے بعد بھی اللہ کی طرف پلٹنا اور اس کی ہدایت پر عمل کرنا میرا مستقل معیار ہوگا؟
Channel • 24K followers
#💢💫 Slamic_ Post Deen ki baatne 💫💢 #Deen ki Baten *✴️ قرآنی تحریری کورس* *🌟 انبیاء علیہ السلام کی دعوت و جدوجہد قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں 🌟* *بسم اللہ الرحمن الرحیم* *دوسرا و آخری سبق: حضرت آدم علیہ السلام —* *تخلیقِ انسان، آغازِ امتحان اور دعوتِ ایمان کی بنیاد* قرآنِ مجید حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کو محض آغازِ انسانیت کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت، دعوتِ توحید اور انسانی ذمہ داری کے مستقل اصول کے طور پر بیان کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ ایمان، کفر، اطاعت، لغزش، توبہ، دشمنی اور ہدایت کے تمام بنیادی نکات کو ایک ہی سلسلے میں واضح کر دیتا ہے، اس سبق کا مقصد آدم علیہ السلام کو ایک نبی اور داعی کے طور پر سمجھنا ہے تاکہ انسان اپنے رب، اپنے دشمن اور اپنے راستے کو پہچان سکے۔ *﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ* *إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾** ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انسان کی تخلیق اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے باقاعدہ منصوبے کے تحت ہوئی، خلافت کا مطلب یہ ہے کہ انسان زمین پر اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا ذمہ دار ہے، اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دعوتِ ایمان کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ انسان اپنے منصب کو سمجھے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ *﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾* ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔ یہ علم انسان کی اصل فضیلت ہے، یہ علم محض معلومات نہیں بلکہ پہچان، شعور اور سمجھ کا علم ہے، اسی علم کی بنیاد پر انسان حق و باطل میں فرق کر سکتا ہے اور اسی لیے وہ مکلف ہے۔ *﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ﴾* ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو۔ یہ سجدہ عبادت نہیں بلکہ تکریم تھا، اس سے انسان کی عزت اور ذمہ داری دونوں واضح ہوئیں، اسی موقع پر شیطان کا تکبر سامنے آیا۔ *﴿إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ﴾* ترجمہ: مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ یہاں حق و باطل کی پہلی لکیر کھنچ گئی، شیطان کا انکار علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ تکبر کی وجہ سے تھا، یہی تکبر ہر دور میں دعوتِ ایمان کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ *﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾* ترجمہ: اور ہم نے فرمایا: اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو۔ آدم علیہ السلام کو واضح ہدایت کے ساتھ اختیار دیا گیا، یہ اختیار ہی امتحان کی بنیاد ہے۔ *﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾* ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔ ہدایت مختصر اور واضح تھی، مگر شیطان نے دھوکے سے لغزش کروائی۔ ﴿ *فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا* ﴾ ترجمہ: پھر شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا۔ یہ لغزش تھی، دانستہ نافرمانی نہیں، اور یہی فرق ایمان اور کفر کے راستے الگ کرتا ہے۔ *﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا﴾* ترجمہ: دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یہ انسانیت کی پہلی توبہ ہے، اعتراف، عاجزی اور رجوع کا کامل نمونہ۔ *﴿فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾* ترجمہ: پھر آدم نے اپنے رب سے کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہاں واضح ہو گیا کہ اللہ کی طرف پلٹنا نجات کا راستہ ہے۔ *﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا﴾* ترجمہ: ہم نے فرمایا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ زمین پر نزول سزا نہیں بلکہ امتحان اور ذمہ داری کا آغاز تھا۔ *﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى﴾* ترجمہ: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے۔ *﴿فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾* ترجمہ: تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ ہدایت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا گیا، یہی دعوتِ ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ اسی مقام پر شیطان اپنے مشن کا اعلان کرتا ہے۔ *﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ* ﴾** ترجمہ: اس نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو ضرور بہکاؤں گا۔ *﴿إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾* ترجمہ: سوائے تیرے ان بندوں کے جو خالص ہیں۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ *﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ* ﴾ ترجمہ: بے شک میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہ ہوگا۔ یہ اعلان بتاتا ہے کہ شیطان کا زور وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں رب کی پہچان اور اخلاص آ جاتا ہے، یہی دعوتِ ایمان کا مقصد ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے۔ *خلاصہ* قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ارادے، علم اور حکمت کے تحت ہوئی، فرشتوں کے سامنے انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا اور آدم علیہ السلام کو علم عطا کر کے ان کی فضیلت واضح کی گئی، اس مرحلے پر ہی واضح کر دیا گیا کہ انسان محض جسم نہیں بلکہ علم، شعور اور ذمہ داری کا حامل ہے، اور اس کی اصل پہچان اس کے رب سے تعلق میں ہے۔ پھر آدم علیہ السلام کو جنت میں بسایا گیا، واضح ہدایت دی گئی اور ساتھ ہی اختیار بھی دیا گیا، یہاں شیطان کی دشمنی کھل کر سامنے آئی جس نے تکبر کی بنیاد پر انسان سے عداوت اختیار کی، اس دشمنی کا پہلا وار آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ پر ہوا، مگر یہ کوئی سرکشی یا دانستہ نافرمانی نہیں تھی بلکہ ایک لغزش تھی، جس کے فوراً بعد آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا، یوں یہ اصول قائم ہو گیا کہ انسان کی عظمت لغزش نہ کرنے میں نہیں بلکہ لغزش کے بعد رب کی طرف پلٹ آنے میں ہے۔ اس کے بعد زمین پر نزول کا مرحلہ آیا جو سزا نہیں بلکہ آزمائش اور ذمہ داری کا آغاز تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ انسان کو ہدایت دی جاتی رہے گی اور جو اس ہدایت کو تھام لے گا وہ خوف اور غم سے محفوظ رہے گا، جبکہ جو حق واضح ہونے کے بعد جھٹلائے گا وہ خود اپنے انجام کا ذمہ دار ہوگا، اسی مقام پر شیطان نے کھلے لفظوں میں اعلان کیا کہ وہ انسان کو حق سے بھٹکانے کی پوری کوشش کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ سنا دیا کہ شیطان کا کوئی زور خالص بندوں پر نہیں چلے گا۔ یوں حضرت آدم علیہ السلام کا پورا واقعہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اصل معرکہ علم و جہالت کا نہیں بلکہ اخلاص و تکبر کا ہے، ہدایت اور گمراہی زبردستی نہیں بلکہ انتخاب کا نتیجہ ہیں، اور نجات کا راستہ رب کی پہچان، توحید کے شعور اور اس کی بندگی میں ہے، یہی پیغام ہر نبی لے کر آیا اور یہی دعوتِ ایمان آج اس امت کی ذمہ داری ہے کہ انسان کو اس کے رب سے جوڑا جائے تاکہ وہ حق کو پہچان کر باطل سے خود محفوظ ہو سکے۔ *👆🏻پیغام کو عام کریں، اور تمام اسباق اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرتے جائیں* #अल्लाहु अकबर #💖💖islamic post💖💖 #💚__الحمدللہ..
See other profiles for amazing content