`خواتین کے مخصوص مسائل۔` *قسط 01*
*علم سیکھنا فرض ہے:*
نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:
”طلب العلم فريضۃعلى كل مسلم “ ترجمہ: ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔”
(سنن ابن ماجہ، 1/ 81)
اس حدیث پاک کی روشنی میں علماء کرام فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان پر اُس کی موجودہ حالت و کیفیت کےمتعلق شرعی مسائل سیکھنا فرضِ عین ہوتا ہے مثلا جب کوئی بالغ ہو تو اس وقت طہارت اور نماز کے مسائل سیکھنا فرض ہوجاتاہے، رمضان کے روزے فرض ہوجائیں تو روزوں کے ضروری مسائل سیکھنا فرض ہوتا ہے۔ یونہی زکوۃ و حج ودیگر معاملات جیسے نکاح، طلاق ، خریدو فروخت اور اجارہ وغیرہ کا موقع آئے تو ان چیزوں کے متعلق شریعت کے احکام سیکھنا فرض ہو جاتا ہے۔
*عورتوں کے لیے حیض و نفاس کے مسائل جاننا:*
عورت پر جو طہارت کے مسائل سیکھنا فرض ہیں ان میں حیض و نفاس کے ضروری مسائل بھی شامل ہیں جیسا کہ حضرت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”ہرمسلمان مردعورت پرعلم سیکھنا فرض ہے،علم سے بقدرِ ضرورت شرعی مسائل مراد ہیں۔لہذا روزے نماز کے مسائلِ ضروریہ سیکھنا ہرمسلمان پرفرض،حیض و نفاس کے ضروری مسائل سیکھنا ہر عورت پر،تجارت کے مسائل سیکھنا ہر تاجر پر،حج کے مسائل سیکھنا حج کو جانے والے پر عین فرض ہیں۔ “
(مراٰۃالمناجیح،1/202)
*حیض و نفاس کےمتعلق شرعی مسائل جاننے کی اہمیت:*
حیض کے مسائل کا علم انتہائی اہم اور ضروری ترین علم ہے ۔ کسی بھی علم کی اہمیت ، عظمت اور مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس علم سے جاہل رہنے میں ضرر و نقصان کتنا ہے۔اور جب ہم حیض کے شرعی مسائل کا جائزہ لیں تو بلا شبہ اس علم سے جاہل رہنے کا نقصان اور ضرر دوسرے کئی علوم کی جہالت سے بڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ متعلق ہونے والے مسائل بے شمار ہیں حتی کہ کئی فقہ کے ابواب کا تعلق اس کے ساتھ جڑتا ہے جیسے
وضو ، غسل ، نماز ، روزہ ، حج ، اعتکاف ، نکاح ، طلاق ، عدت ، استبراء ، ازدواجی تعلقات ، قرآن پاک کی تلاوت ، قرآن پاک کو چھونا ، مسجد میں داخل ہونا ، بلوغت وغیرہ۔
یہ صرف ابواب کے نام لکھے گئے ورنہ تفصیل کی جائے توان میں سے ہر ایک کے تحت حیض سے متعلق بیسیوں مسائل ہیں۔اور ان مسائل سے غفلت و جہالت کا اثر کیساہوتا ہے، اس کااندازہ اس مسئلے سے لگائیں کہ
مثلاً عورت کو عادت کے دن شروع ہونے سے چند دن پہلے ہی خون آنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر خون دس دن مکمل ہونے پر بھی نہیں رکتا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورت کون سے دنوں کو حیض سمجھے اور کون سے دنوں کو استحاضہ ؟
دس دن پورے ہونے کے بعد کیا کرے گی ؟
ان سب دنوں میں سے کون سے دنوں میں نماز پڑھنی ہے اور کون سے دنوں میں نہیں؟
رمضان کا روزہ رکھنا ہے یا نہیں؟
ازدواجی تعلقات حلال ہیں یا حرام ؟
قرآن پڑھنااور چھونا حلال ہے یا حرام؟
ان سب باتوں کا فیصلہ اس خون کے حیض ہونے یا نہ ہونے پر موقوف ہے۔
اور نماز کا معاملہ تو ایسا ہے کہ علم نہ ہونے کی وجہ سے اگر عورت نے خون کو حیض سمجھ کر نماز چھوڑ دی اور وہ خون حیض نہ تھا تو حرام میں مبتلا ہوگی
اور اگر خون کو استحاضہ سمجھ کر نماز پڑھ لی اور وہ خون حیض تھا تو اب بھی حرام میں مبتلا ہوگی۔
اور یہ معاملہ پانچوں نمازوں کے وقت درپیش ہوگا۔
یہی صورت رمضان کے روزوں میں بھی پیش آئے گی ۔
لہذا جب تک عورت کوخون کے حیض ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ معلوم نہ ہو جائے وہ شرعی احکام پر عمل نہ کرپائے گی اور قدم قدم پر گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہے گا۔
*یاد رکھیں سیکھنے کی قدرت ہونے کے باوجودضروری علم نہ سیکھنا یہ خود ایک الگ گناہ ہے لہذا ایسی جگہ مسئلہ معلوم نہ ہونے کا عذر بھی مقبول نہ ہوگا ۔*
`جاری ہے۔۔۔۔۔۔`
#🕌 نعت شریف🎧