
___♥︎صـالحـہ♥︎___
@s____qadri
وَمَاالْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرور
*سرکار ﷺ کا دربار نہیں دیکھ رہے کیا؟*
*دربار میں دو یار نہیں دیکھ رہے کیا؟*
*تم دنیا کے معیار تو سب دیکھ رہے ہو*
*اللّٰه کا معیار نہیں دیکھ رہے کیا؟*
*کہتے ہو کہ قرآں میں ابوبکر کہاں ہے*
*تم آیت فی الغار نہیں دیکھ رہے کیا؟*
*دلہا بنے آئے ہیں ابوبکر کے گھر میں*
*کونین کے سردار ﷺ نہیں دیکھ رہے کیا؟*
*صدیق امامت پہ ہیں اور مقتدیوں میں*
*تم حیدر قرار نہیں دیکھ رہے کیا؟*
*ہر گھر نہیں اللّٰه کا گھر ہوتا میرے دوست*
*تم مسجد ضرار نہیں دیکھ رہے کیا؟*
*تحسین ابھی حق کے طرف دار بہت ہیں*
*یہ مجمع بیدار نہیں دیکھ رہے کیا؟* #📗حدیث کی باتیں📜 #🕌سیرت النبیﷺ📓
44
فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْؕ-وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ(44)
ترجمہ: کنزالعرفان
تو جلد ہی تم وہ یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں ، اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں ، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔
تفسیر: صراط الجنان
{فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ: تو جلد ہی تم وہ یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مردِ مومن نے کہا: میری باتیں ابھی تمہارے دل پر نہیں لگتیں لیکن عنقریب جب تم پر عذاب نازل ہو گا تو اس وقت تم میری نصیحتیں یاد کرو گے مگراس وقت کا یاد کرنا کچھ کام نہ دے گا ۔ یہ سن کر ان لوگوں نے اس مومن کو دھمکی دی کہ اگر تم ہمارے دین کی مخالفت کرو گے تو ہم تمہارے ساتھ برے طریقے سے پیش آئیں گے ۔اس کے جواب میں اس نے کہا: میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کو سونپتا ہوں ، بیشک اللہ تعالیٰ بندوں کو دیکھتا ہے اور ان کے اعمال اوراحوال کو جانتا ہے (لہٰذا مجھے تمہارا کوئی ڈر نہیں )۔( خازن، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۴۴، ۴ / ۷۳، ملخصاً)
میرا مالک نہیں ،میرا
اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی عمل کرتے وقت یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے تمام اَعمال اور اَحوال سے با خبر ہے،یہاں اسی سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بعض لوگوں کے ساتھ صحرا کی طرف نکلے ،وہاں انہوں نے کھانا پکایا ،جب کھانا تیار ہو گیا تو وہاں انہوں نے ایک چرواہے کو دیکھا جو بکریاں چرا رہا تھا،انہوں نے اسے کھانے کی دعوت دی تو چرواہے نے کہا:آپ کھائیں کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔لوگوں نے اسے آزمانے کے طور پر کہا:اس جیسے شدید گرم دن میں تم نے کیسے روزہ رکھا ہوا ہے؟اس نے کہا:جہنم کی گرمی اس سے زیادہ شدید ہے۔لوگ اس کی بات سن کر حیران ہوئے اور اس سے کہا:ان بکریوں میں سے ایک بکری ہمیں بیچ دو،ہم تمہیں اس کی قیمت بھی دیں گے اور اس کے گوشت میں سے حصہ بھی دیں گے۔اس نے کہا:یہ بکریاں میری نہیں بلکہ میرے سردار اور میرے مالک کی ہیں تو پھر میں اسے کیسے بیچ سکتا ہوں ۔لوگوں نے اس سے کہا:تم اپنے مالک سے یہ کہہ دینا کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ہے یا وہ گم ہو گئی ہے ۔اس چرواہے نے کہا:(اگر میرا مالک مجھے نہیں دیکھ رہا تو پھر)اللہ تعالیٰ کہاں ہے (یعنی جب وہ مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر میں جھوٹی بات کیسے کہہ سکتا ہوں ) لوگ اس کے کلام سے بہت حیران ہوئے ،پھر جب وہ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے بکریوں سمیت اس چرواہے کو خرید کر آزاد کر دیا اور وہ بکریاں اسے تحفے میں دیدیں ۔( روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۴۴، ۸ / ۱۸۸)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا حقیقی خوف نصیب فرمائے اور ہر حال میں اپنی نافرمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔ #🕌سیرت النبیﷺ📓 #🕌 نعت شریف🎧 #📗حدیث کی باتیں📜
بلحاظِ حروف تہجی اعضائے بدن کے نام:
منقول ہے کہ ایک روز عبد الملک بن مروان اپنے خواص اور قصہ گو افراد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھاکہ اُس نے کہا: تم میں سے کون ہے جو حروف تہجی کی ترتیب سے بدن کے حصوں کے نام بتائے؟حضرت سیِّدُناسوید بن غفلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے امیر المؤمنین !میں بتاؤں گا۔عبد الملک نے کہا: بتاؤ۔ حضرت سیِّدُناسُوَیْدبن غَفَلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:
اَنْفٌ (ناک) بَطْنٌ (پیٹ) تَرْقُوَۃٌ (ہنسلی کی ہڈی) ثَغْرٌ (اگلے دانت)
جُمْجُمَۃٌ (کھوپڑی)
حَلْقٌ (حلق) خَدٌّ (رخسار) دِمَاغٌ (دماغ) ذَکَرٌ (آلَۂ تناسل)
رَقَبَۃٌ (گردن) زَنْدٌ (ہاتھ کاگٹا) سَاقٌ (پنڈلی) شَفَۃٌ (ہونٹ) صَدْرٌ (سینہ) ضِلْعٌ (پسلی) طِحَالٌ (تلی) ظَہْرٌ (پیٹھ) عَیْنٌ (آنکھ) غَبَبٌ (آدمی کے گلے کے نیچے لٹکا ہواگوشت) فَمٌ (منہ) قَفَا (گدی) کَفٌّ (ہتھیلی) لِسَانٌ (زبان) مَنْخَرٌ (نتھنا) نُغْنُغٌ (حلق میں بڑھاہواگوشت)
ھَامَۃٌ (کھوپڑی) وَجْہٌ (چہرہ) یَدٌ (ہاتھ)
۔عبدالملک کےاصحاب میں سےایک شخص کھڑاہوا اوراُس نے کہا: میں ایک ایک حرف تہجی سے دو دو بدن کے حصوں کے نام بتاؤں گا۔عبدالملک یہ سن کر ہنسا اورحضرت سیِّدُنا سویدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےکہا: کیا تم نے یہ سنا؟ آپ نے فرمایا: میں تین تین نام بتاؤں گا ۔عبد الملک نےکہا: بتاؤاورتمہاری جوخواہش ہوگی وہ پوری کی جائےگی۔
فرمایا: اَنْفٌ (ناک) اَسْنَانٌ (دانت) اُذُنٌ (کان) بَطْنٌ (پیٹ) بِنْصَرٌ (چھوٹی انگلی) بِزَّۃٌ (جسمانی ساخت) تَرْقُوَۃٌ (ہنسلی کی ہڈی) تُمْرَۃٌ (حشفہ) تِیْنَۃٌ (بچےکاتالو) ثَغْرٌ (اگلےدانت) ثَنَایَا (سامنےکےدودانت) ثَدْیٌ (پستان) جُمْجُمَۃٌ (کھوپڑی) جَنْبٌ (پہلو) جَبْہَۃٌ (پیشانی) حَلْقٌ (حلق) حَنَکٌ (تالو) حَاجِبٌ (ابرو) خَدٌّ (رخسار) خِنْصَرٌ (چھوٹی انگلی) خَاصِرَۃٌ (کوکھ) دُبُرٌ (سرین) دِمَاغٌ (دماغ) دَرَادِیْرٌ (مسوڑھے) ذَقَنٌ (ٹھوڑی) ذَکَرٌ (آلَۂ تناسل) ذِرَاعٌ (بازو) رَقَبَۃٌ (گردن) رَأْسٌ (سر) رَکْبَۃٌ (گھٹنا) زَنْدٌ (ہاتھ کاگٹا) زَرْدَمَۃٌ (گلا) زُبٌّ (ذَکَر) ۔یہ سن کرعبْدُالملک اتناہنساکہ ہنستے ہوئے چت لیٹ گیا۔حضرت سیِّدُناسوید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےسِلسلۂ کلام جاری رکھتےہوئےفرمایا: سَاقٌ (پنڈلی) سُرَّۃٌ (ناف) سُبَابَۃٌ (شہادت کی انگلی) شَفَۃٌ (ہونٹ) شَفْرٌ (پلک کی جڑ) شَارِبٌ (مونچھ) صَدْرٌ (سینہ) صُدْغٌ (کنپٹی) صَلْعَۃٌ (سرکی کھال) ضِلْعٌ (پسلی) ضَفِیْرَۃٌ (چوٹی) ضِرْسٌ (داڑھ) طِحَالٌ (تلی) طُرَّۃٌ (گیسو) طَرَفٌ (بدن کاایک حصہ) ظَہْرٌ (پیٹھ) ظُفْرٌ (ناخن) ظَلْمٌ (چمکداردانت) عَیْنٌ (آنکھ) عُنُقٌ (گردن) عَاتِقٌ (مونڈھا) غَبَبٌ (آدمی کےگلےکےنیچےلٹکاہواگوشت) غَلْصَمَۃٌ (گلا) غُنَّۃٌ (ناک) فَمٌ (منہ) فَکٌّ (جبڑا) فُؤَادٌ (قلب) قَلْبٌ (دل) قَفَا (گدی) قَدَمٌ (قدم) کَفٌّ (ہتھیلی) کَتِفٌ (کاندھا) کَعْبٌ (ٹخنہ) لِسَانٌ (زبان) لِحْیَۃٌ (داڑھی) لَوْحٌ (بدن کی چوڑی ہڈی) مَنْخَرٌ (نتھنا) مِرْفَقٌ (کہنی) مَنْکِبْ (مونڈھا) نُغْنُغٌ (حلق میں بڑھا ہواگوشت) نَابٌ (نوکیلادانت) نَنٌّ (کمزوربال) ھَامَۃٌ (کھوپڑی) ہَیْئَۃٌ (صورت) ہَیْفٌ (پتلی کمر) وَجْہٌ (چہرہ) وَجْنَۃٌ (گال) وَرْکٌ (ران کے اوپر کا حصہ) یَمِیْنٌ (داہنا ہاتھ) یَسَارٌ (بایاں ہاتھ) یَافُوْخٌ (تالو) ۔عبْدُالملک یہ سن کرہنسا اورکہا: بخدا!اس سے زیادہ بیان نہیں ہوسکتا انہیں دیدو جویہ چاہتے ہیں ۔ پھر عبْدُالملک نے انہیں اِنعام واِکرام سے نوازا اور ان کے ساتھ خوب احسان کیا۔
دین و دنیا کی انوکھی باتیں #👳♂️روحانی رہنما💞 #📗حدیث کی باتیں📜 #🕌سیرت النبیﷺ📓
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمّد ﷺ
____غیبت____
کسی کا کوی غاںٔبانہ عیب بیان کرنا،یا پیٹھ پیچھے اس کو بُراکہنا یہی غیبت ہے۔
غیبت ان گناہوں میں سے ہے جو کثیر الوقوع ہیں۔ اور باجودیکہ سخت گناہ کبیرہ ہے۔ یہاں تک کہ زنا سے بھی بدتر گناہ ہے۔
مگر!! موجودہ دور میں بہت ہی کم ایسے ہیں جو اس گناہ سے پاک ہیں۔
عوام تو عوام بڑے بڑے علما ، عالمات ،مفتی، مفتیہ نیز پیروں کا دامن بھی اس گناہ کی نحوست سے آلود نظر آتاہے۔
علماء و مشاںٔخ کی شاید ہی کوںٔی مجلس ہوگی جو اس گناہ کی ظلمت سے خالی ہو۔
پھر! حیرت کی بات تو یہ ہے کہ لوگ غیبت کے عادی اس قدر ہو گںٔے ہیں گویا کہ یہ انکے نزدیک گناہ ہے ہی نہیں۔
مگر یاد رکھیں!! علماکی مجلس ہو یا عوام کا مجمع، ہر جگہ، ہر حال میں "غیبت "حرام و گناہ ہے اور گناہ بھی گناہِ کبیرہ ہے۔
❗لہذا جب کبھی غفلت میں کوںٔی غیبت زبان سے نکل جاے تو فوراً توبہ کر لینی چاہیے۔ اور جس کی غیبت کی ہے ( گر اس کو معلوم ہوگیا ہو) تو اس سے معافی مانگ لینی چاہیے ؛ کیوں کہ اسی میں مومن کی دینی و دنیوی فلاح ہے اور یہی نجات کا راستہ ہے۔
اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ولا یغتب بعضکم بعضا أ یحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ و اتقوا اللہ ان اللہ تواب رحیم( پ ٢٦ الحجرات آیت : ١٢)
ترجمہ کنز الایمان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیاتممیں کوںٔی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھاںٔی کا گوشت کھاۓ تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت تو بہ قبول کرنیوالا مہربان ہے۔
بنت حافظ و قاری محمد شبیر احمد
١٢/ دسمبر٢٠٢٥ #🕌سیرت النبیﷺ📓 #📗حدیث کی باتیں📜
*صدر الشریعہ بدر الطریقت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی🌹🌿🌹
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی ہی مصروفیت ہو نمازِ فجر کے بعد ایک پارہ کی تلاوت فرماتے اور پھر ایک حزب (باب) دلائل الخیرات شریف پڑھتے،
اس میں کبھی ناغہ نہ ہوتا، اور بعد نمازِ جمعہ بلا ناغہ 100 بار *درودِ رضویہ* پڑھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حتیٰ کہ سفر میں بھی جمعہ ہوتا تو نمازِ ظہر کے بعد *درودِ رضویہ* نہ چھوڑتے، چلتی ہوئی ٹرین میں کھڑے ہو کر پڑھتے۔ ٹرین کے مسافر اس دیوانگی پر حیرت زدہ ہوتے مگر انہیں کیا معلوم۔۔۔۔۔۔۔
`"دیوانے کو تحقیر سے دیوانہ نہ کہنا`🌷
`دیوانہ بہت سوچ کے دیوانہ بنا ہے"🌷` #🕌سیرت النبیﷺ📓 #📗حدیث کی باتیں📜
*حضرت علامه امام فخر الدین رازی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں*
*کہ دنیا ایک باغ ہے جسے پانچ چیزوں سے سجایا گیا ہے عالموں کے علم سے ، حاکموں کے انصاف سے ، عبادت گزاروں کی عبادت سے تاجروں کی امانت سے اور اہل پیشہ کی نصیحت سے تو ابلیس نے پانچ قسم کا جھنڈا آکر ان چیزوں کی بغل میں گاڑ دیا ۔ علم کے پہلو میں حسد کا جھنڈا ، انصاف کے بازو میں ظلم کا جھنڈا ، عبادت کی بغل میں ریا کاری کا جھنڈا، امانت کے پہلو میں خیانت کا جھنڈا اور اہلِ پیشہ کے بازو میں کھوٹ کا جھنڈا ۔*
*📓تفسیر کبیر جلد اول ص ۳۶*
*علم کی بغل میں حسد کا جھنڈا ابلیس کے گاڑنے ہی کا اثر ہے کہ عالموں میں حسد بہت زیادہ پایا جاتا ہے یہاں تک کہ استاد شاگرد سے اور شاگرد استاد سے حسد کرنے لگتا ہے بلکہ یہاں تک کہ بعض عالم جو اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم تقویٰ کی سب سے بلند چوٹی پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی ابلیس کے حسدی جھنڈا کے نیچے آکر بری طرح حسد کرنے لگتے ہیں اور دین متین کی صحیح خدمت کرنے والے عالموں کو طرح طرح سے اذیتیں پہنچاتے ہیں*
#🕌 نعت شریف🎧 #🕌سیرت النبیﷺ📓 #📗حدیث کی باتیں📜
اکثر فقہاء کرام کے نزدیک عورت کی آواز بذات خود "ستر" (عورت) میں داخل نہیں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عہد نبوی میں خواتین صحابہ مردوں کی موجودگی میں سوالات پوچھتی تھیں اور ان سے بات چیت کرتی تھیں۔ تاہم، اس مسئلے میں کچھ شرائط اور تفصیلات ہیں:
نرمی اور لچکدار لہجے سے پرہیز: قرآن کریم میں امہات المؤمنین (نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات) اور تمام مسلمان خواتین کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ غیر محرم مردوں سے بات کریں تو اپنی آواز میں نرمی اور لچک پیدا نہ کریں، تاکہ جس شخص کے دل میں بیماری (شہوت) ہو، وہ کسی غلط خیال میں مبتلا نہ ہو۔ انہیں "مناسب اور عام" طریقے سے بات کرنی چاہیے۔
ضرورت اور فتنہ کا خوف: عورت کو ضرورت کے وقت مردوں سے بات کرنے کی اجازت ہے، لیکن بلا ضرورت غیر محرم مردوں سے بات چیت کرنے یا آواز سنانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ فتنہ (آزمائش یا جنسی خواہش پیدا ہونے) کا امکان ہو سکتا ہے۔
عوامی مقامات پر آواز: اگر کوئی عورت عوامی سطح پر، جیسے تعلیم یا دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں بات کرتی ہے، تو اسے وقار اور باوقار انداز میں بات کرنی چاہیے، بغیر کسی بناؤ سنگھار یا دلکش لہجے کے۔
خلاصہ یہ کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے، لیکن اس کا لہجہ اور بات کرنے کا انداز ایسا ہونا چاہیے جو حیا کے تقاضوں کے مطابق ہو اور فتنے کا باعث نہ بنے۔ #🕌سیرت النبیﷺ📓 #📗حدیث کی باتیں📜






